This is a blog about the fact that we need to deal with people who have psychological problems with more empathy. Here is a link to the original blog post.

لوگوں کے نفسیاتی عوارض اور ہمارا رویہ

 

میرے ایک عزیز ہیں جو تنہا رہتے ہیں۔ وہ ایک اچھی ملازمت سے ریٹائر ہوئے ہیں اور انہوں نے شادی نہیں کی۔ اب کسی سے گھلنا ملنا پسند نہیں کرتے، لوگوں پر شک کرتے ہیں کہ لوگ ان کی جائیداد ہتھیانے کے درپے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو بہت سی خطرناک بیماریاں لاحق ہیں مگر ڈاکٹر جان بوجھ کر اس بات کی تردید کر دیتے ہیں۔ یہ بات بہت واضح ہے کہ یہ صاحب بہت سے نفسیاتی عوارض کا شکار ہیں۔ اس بات کو اتنا واضح طور پر سمجھنے کے باوجود ہم رشتہ داروں میں سے اکثر ان کی غیر موجودگی میں ان کے رویے کا ذکر کرتے ہیں کہ یہ بہت عجیب ہے اور باوجود یہ بات جاننے کے کہ وہ ذہنی طور پر تندرست نہیں رہے، ہم ان سے ایک انتہائی تندرست رویے کی توقع کرتے ہیں۔ شاید اس لئے کہ ان کے نفسیاتی عوارض کی کسی ماہر نے ابھی تک توثیق نہیں کی کیونکہ ایسے کسی معالج سے رجوع نہیں کیا گیا اور یا پھر اس لئے کہ ہم نفسیاتی عوارض کو ایک بیماری نہیں سمجھتے بلکہ ایک ایسی تکلیف سمجھتے ہیں جو کہ انسان کے اپنے بس میں ہے اور وہ اس شخص کا اپنا خود کا پیدا کردہ رویہ ہے۔

اگر کسی بھی شخص کو بخار ہو جائے جو کہ تھرمامیٹر کے پارے پر دکھائی دے جاتا ہے تو ہم اسے شدید جسمانی مشقت سے روک دیتے ہیں۔ جسمانی طور پر بیمار شخص اگر محفلوں میں شریک نہ ہو تو ہم اسے بیماری کی رعایت بھی دیتے ہیں اور اس کی مزاج پرسی بھی کرتے ہیں۔ مگر اگر کوئی ذہنی طور پر بیمار شخص محفلوں میں شریک نہ ہونا چاہے تو ہم جھنجھلاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جانے اس کے ساتھ کیا مسئلہ ہے۔

بات یہ ہے کہ ہمارا ذہن بھی تو جسم کے باقی تمام حصوں کی طرح کا ایک حصہ ہی ہے اور یہ بھی مختلف کیمیائی مادوں کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے بہت سی تبدیلیوں اور بیماریوں سے گزر سکتا ہے۔

میری ایک دوست ڈپریشن کی بیماری کا شکار ہو گئی اور ایک معالج نے اسے جو دوا دی اس کے بعد اس کا رجحان خودکشی کی طرف مزید بڑھ گیا۔ وہ ہر وقت کوئی ایسی دوائی ڈھونڈتی رہتی تھی جو کھا کر وہ اپنی زندگی کا خاتمہ کر سکے۔ جب اس معالج سے دوبارہ رجوع کیا گیا تو اس نے سہولت سے کہا کہ یہ تو اس دوا کے سائیڈ ایفیکٹس میں اسے ایک تھا۔ خیر پھر دوائی کو تبدیل کیا گیا اور اب وہ بالکل صحت مند ہے۔ بات یہ ہے کہ محض چند کیمیائی مادوں کے اتار چڑھاؤ سے ہمارے حقیقت کو دیکھنے اور زندگی کو برتنے کے رویے میں بے حد فرق آسکتا ہے۔ اسی طرح بعض اوقات قدرتی طور پر اور بعض اوقات سخت حالات کا مقابلہ کرنے سے دماغ میں کچھ کیمیکل کا اتار چڑھاؤ واقع ہو جاتا ہے۔ مگر کسی بھی اور بیماری کی طرح بیشتر ذہنی بیماریوں میں بھی نہ تو مریض کا اپنا کچھ قصور ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے اطراف میں رہنے والے لوگوں کا۔

ذہنی عوارض مریض کی اپنی اختراع نہیں ہوتے بلکہ وہ تو اس کے اپنے معمولات زندگی کو شدید حد تک متاثر کر رہے ہوتے ہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ ہر برے رویے کی وجہ ایک نفسیاتی عارضہ نہیں ہوتی، کچھ لوگ فطرتا برے بھی ہوتے ہیں۔ مگر جو لوگ ایک دم سے اپنا رویہ بدل لیں ہمیں ان کے زیادہ قریب ہو کر ان کے رویے کا جائزہ لینا چاہیے۔ انہیں کسی اچھے معالج کے پاس لے کر جانا چاہیے۔ اور کسی بھی ڈپریشن، انگزائیٹی اور فوبیا کے مریض سے ایسے نہیں کہنا چاہیے کہ یہ سب تمہارے اپنے ذہن کی اختراع ہے، تم خود کو ٹھیک کرو۔ تم کیا ہر وقت روتے رہتے ہو، ہماری اپنی زندگی بھی تو مشکل ہے۔ لوگ تو تم سے بھی بری زندگی گزار رہے ہیں، تم کیوں قنوطی ہو رہے ہو۔ کسی بھی ذہنی بیماری کے مریض شخص کے قریب رہنا اور اس سے ایک حوصلے بھرا برتاؤ کرنا ہرگز بھی آسان نہیں ہے۔ مگر اب جب ہر چیز کے بارے میں معلومات اور رسائی اس حد تک بڑھ چکی ہے، ہمیں بھی اپنے رویے میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کی ذہنی بیمار شخص بھی ایک مریض ہے اور اسے ہمارے تنقید سے زیادہ علاج، ہماری موجودگی، حوصلہ افزائی، محبت اور ہمدردی کی ضرورت ہے۔